حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آزاد کشمیر انتخابات کا فیصلہ کن مرحلہ شروع، باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری Home / پاکستان /

آزاد کشمیر انتخابات کا فیصلہ کن مرحلہ شروع، باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری

ایڈیٹر - 10/08/2026
آزاد کشمیر انتخابات کا فیصلہ کن مرحلہ شروع، باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 2026 کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے، جہاں صبح سے ہی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

نئے انتخابی شیڈول کے مطابق تیسرے مرحلے میں باغ کے 3 اور حویلی کے ایک حلقے میں آج پولنگ ہورہی ہے، جبکہ پونچھ کے 5 اور سدھنوتی کے 2 حلقوں میں انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں۔

چاروں حلقوں میں پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا جو کسی وقفے کے بغیر شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ انتخابی حکام کے مطابق ووٹنگ کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر سیکیورٹی کے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

یہ مرحلہ سیاسی اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان حلقوں سے آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتوں کی اہم شخصیات میدان میں ہیں۔ سابق وزرائے اعظم سردار عتیق اور سردار تنویر الیاس کے علاوہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور بھی انتخابی معرکے میں حصہ لے رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں مجموعی طور پر تقریباً 4 لاکھ 60 ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے جامع انتظامات کیے گئے ہیں۔

آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی، جس میں مسلم لیگ ن نے 9 جبکہ پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کی تھیں۔

دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخابات ہوئے، جہاں مسلم لیگ ن نے 15 اور پیپلز پارٹی نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

اب تک کے نتائج کے مطابق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 45 نشستوں میں مسلم لیگ ن 24 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

باغ اور حویلی کے 4 حلقوں میں جاری پولنگ کے نتائج نہ صرف ان حلقوں کی سیاسی صورت حال واضح کریں گے بلکہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مجموعی منظرنامے پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔