بٹخیلہ کینال روڈ کی پختگی اور تعمیرِ نو کے لیے سڑک کی کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے، جسے علاقہ مکینوں نے خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیا ہے۔ اس اہم سڑک کی تعمیر و پختگی سے نہ صرف شہریوں کو آمدورفت میں سہولت میسر آئے گی بلکہ علاقے میں ٹریفک کے مسائل میں بھی کمی واقع ہونے کی توقع ہے۔
تاہم سڑک کی پختگی کے لیے جس حصے کی کھدائی کی جا رہی ہے، اس کا جائزہ لینے سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر سڑک کے دونوں اطراف کے کناروں کو سابقہ طرزِ تعمیر کے مطابق چھوڑ دیا جائے گا، جیسا کہ جالاوانان روڈ میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو سڑک اپنی مکمل گنجائش کے مطابق استعمال نہیں ہو سکے گی اور مستقبل میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے اس اہم شاہراہ کی افادیت محدود رہ جائے گی۔
علاقہ مکینوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بٹخیلہ کینال روڈ کی تعمیر کے اس موقع کو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر سڑک کو دونوں اطراف کے موجودہ کناروں تک وسعت دے کر پختہ کیا جائے تو یہ نہ صرف روزمرہ ٹریفک کے لیے زیادہ کشادہ اور محفوظ راستہ بن سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر اسے عارضی بائی پاس روڈ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خصوصاً بٹخیلہ بازار اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر سڑک کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ چوڑائی برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بعد میں سڑک کو وسیع کرنا نہ صرف مشکل ہوگا بلکہ اس پر اضافی اخراجات بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے موجودہ تعمیراتی مرحلے ہی میں سڑک کے دونوں کناروں کو شامل کرکے اسے کشادہ اور معیاری انداز میں تعمیر کیا جانا زیادہ مناسب ہوگا۔
علاقہ مکینوں نے متعلقہ تعمیراتی ادارہ محکمہ مواصلات و تعمیرات اور صوبائی وزیرِ مواصلات شکیل خان ایڈوکیٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ بٹخیلہ کینال روڈ کی تعمیر و پختگی کے دوران سڑک کے کناروں کو نظرانداز نہ کیا جائے اور دستیاب جگہ کو بروئے کار لاتے ہوئے سڑک کو زیادہ سے زیادہ چوڑائی تک پختہ کیا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیا گیا تو یہ سڑک علاقے کے لیے ایک اہم متبادل راستے کے طور پر بھی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے اور ہنگامی حالات یا مرکزی شاہراہ پر ٹریفک کے دباؤ کے دوران عارضی بائی پاس کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
لہٰذا متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ تعمیراتی کام کی نگرانی کے دوران اس پہلو پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ آج کی گئی تعمیر کل کے لیے مسئلہ بننے کے بجائے علاقے کی آئندہ ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو۔