حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی قیادت میں تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کی راہ تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ نجی ملاقاتوں میں ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے ممکنہ نتائج پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے اپنے مؤقف سے مرکزی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا۔
امریکی حکام کے درمیان یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا آسان نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے محدود نتائج حاصل ہونے کا امکان ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں تہران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
جنرل ڈین کین اور بعض دیگر اعلیٰ حکام نے جولائی کے آخر میں ایران کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کی تجاویز پر بھی تحفظات ظاہر کیے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ ایرانی ردعمل کے حوالے سے خلیجی ممالک نے بھی امریکا کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا۔
امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران جوابی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے مفادات اور توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان خدشات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ بڑے فوجی آپریشن کو مؤخر کردیا۔
رپورٹ میں امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ طویل جنگ جاری رہنے کی صورت میں امریکا کو فضائی دفاع کے لیے استعمال ہونے والے دفاعی میزائلوں اور انتہائی درست نشانے والے دیگر ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس صورتحال کے باعث واشنگٹن کے لیے طویل عرصے تک ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں زمینی فوج اتارنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں، تاہم انتظامیہ میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر فضائی حملوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو امریکا کو مزید فوجی اقدامات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔
جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر فوجی کارروائی کا حکم دیا گیا تو امریکی مسلح افواج ایران کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکی انتظامیہ ایسے ممکنہ حل پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے صدر ٹرمپ کسی معاہدے یا پیش رفت کو اپنی سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرسکیں، جبکہ سفارتی مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رہے۔
اسی سلسلے میں ایک ایسے ممکنہ معاہدے پر بھی غور کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہوسکے۔
یوں ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے خطرات، خطے میں ممکنہ جوابی حملوں اور امریکی عسکری وسائل پر دباؤ کے باعث واشنگٹن میں جنگ کو مزید پھیلانے کے بجائے کسی سیاسی یا سفارتی حل کی تلاش پر توجہ بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔