حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): یومِ شہدائے پولیس کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دہشت گردی، امن و امان اور پولیس کی استعداد کار پر اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف طاقت کے استعمال سے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے مؤثر حکمت عملی اور دانشمندانہ فیصلوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
تقریب میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں وزیراعلیٰ نے شہدائے پولیس کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے اور یہاں کے عوام اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہادری کے باعث ملک بھر میں ممتاز مقام رکھتی ہے اور صوبائی حکومت ہر مشکل گھڑی میں پولیس فورس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ ان کے مطابق پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے حکومت نے خطیر مالی وسائل مختص کیے ہیں، جبکہ فورس کو جدید اسلحہ، محفوظ گاڑیاں، بہتر انفراسٹرکچر اور تھانوں کی اپ گریڈیشن سمیت دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کی حالیہ لہر بعض غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں عوام، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ قربانیوں سے امن بحال ہوا تھا، تاہم بعد میں اختیار کی گئی بعض پالیسیوں نے دوبارہ حالات کو خراب کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ان کے لیے ذاتی نوعیت بھی رکھتی ہے کیونکہ اس میں انہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو بھی کھویا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن صرف اس وقت ممکن ہوگا جب تمام ریاستی ادارے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ اگر متعلقہ ادارے مکمل تعاون کریں تو وہ 100 دن کے اندر امن کی بحالی کے لیے مؤثر نتائج دینے کو تیار ہیں۔
سیاسی معاملات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے کبھی پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں خیبرپختونخوا پولیس کو کسی سیاسی جماعت، بشمول جمعیت علمائے اسلام، کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس کا کردار صرف قانون کا نفاذ اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی مقاصد کی تکمیل۔