واشنگٹن: امریکی حکومت نے اپنے متنازع 'ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام' کو مستقل شکل دے دی ہے، جس کے تحت مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے وزٹ ویزے کے حصول کے وقت 10 ہزار سے 20 ہزار ڈالر تک کا قابلِ واپسی مالی بانڈ جمع کرانا لازمی ہوگا۔ تاہم، بیرون ملک سفر کے خواہش مند پاکستانی شہریوں کے لیے ایک بڑی معاشی اور سفارتی خوشخبری یہ ہے کہ اس نئے قانون کے دائرہ کار سے پاکستان کو مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے، یعنی پاکستانی ویزا درخواست گزاروں کو اس قسم کی کوئی مالی ضمانت جمع نہیں کرانی ہوگی۔
بین الاقوامی آن لائن جریدے کی رپورٹ کے مطابق، نئے قوانین کے تحت کاروباری (Business) اور سیاحتی (Tourist) ویزا درخواست گزاروں کے لیے قابلِ واپسی بانڈ کی زیادہ سے زیادہ حد کو 15 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ان ممالک کے شہریوں پر نافذ کیا گیا ہے جن کے ویزا اوور اسٹے (مقررہ مدت سے زیادہ قیام) کی شرح انتہائی بلند ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ 50 ممالک کی اس نئی فہرست میں بنگلہ دیش، نیپال اور متعدد افریقی ممالک شامل ہیں، جبکہ پاکستان، بھارت، افغانستان اور ایران کا نام اس سخت ترین فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس فہرست میں شامل نہ ہونا ملکی امیگریشن ریکارڈ اور سفارتی سطح پر ایک مثبت پیشرفت ہے۔