حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
غزہ کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب میں اختلاف نمایاں، حماس کے ہتھیار ڈالے بغیر تعمیرِ نو ممکن نہیں، نیتن یاہو Home / بین الاقوامی /

غزہ کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب میں اختلاف نمایاں، حماس کے ہتھیار ڈالے بغیر تعمیرِ نو ممکن نہیں، نیتن یاہو

ایڈیٹر - 04/08/2026
غزہ کے معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب میں اختلاف نمایاں، حماس کے ہتھیار ڈالے بغیر تعمیرِ نو ممکن نہیں، نیتن یاہو

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پائے جانے والے اختلافات کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی بحالی اور پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوگا جب حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو اور علاقے سے عسکری سرگرمیوں کا خاتمہ کر دیا جائے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نکولائے ملادینوف سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق بعض اہم معاملات پر ان کا اور امریکی قیادت کا نقطۂ نظر یکساں نہیں، تاہم اسرائیل اپنی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی اختیار نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مؤقف ابتدا سے واضح ہے کہ حماس کو اپنے تمام ہتھیار چھوڑنا ہوں گے اور غزہ کو مکمل طور پر غیر فوجی خطہ بنایا جائے۔ ان کے بقول جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، تعمیرِ نو کے منصوبے اور دیرپا استحکام کی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتیں۔

بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی سفارتی یا سیاسی معاہدے میں اسرائیل کی قومی سلامتی کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ خطے میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ کے انتظام، حماس کے مستقبل اور تعمیرِ نو کے طریقۂ کار پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان موجود اختلافات آئندہ مذاکرات کی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔