حسبان نیوز (ویب ڈیسک): سعودی حکومت نے عمرہ زائرین کے لیے خدمات کو مزید منظم بنانے کے سلسلے میں ایک نئی پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مصر سے آنے والے زائرین کے لیے کھانے کی لازمی سہولت کو عمرہ ویزا کے نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق نئی پالیسی کا اطلاق یکم ربیع الاول سے ہوگا۔ ابتدائی مرحلے میں صرف چار ممالک کے زائرین اس نظام کے تحت آئیں گے، جبکہ آئندہ اسے دیگر ممالک تک بھی توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
نئے طریقۂ کار کے مطابق ہر عمرہ زائر سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 20 سعودی ریال کے مساوی رقم کھانے کی سہولت کے لیے وصول کی جائے گی۔ یہ رقم الگ سے ادا نہیں کرنا ہوگی بلکہ عمرہ ویزا فیس میں شامل ہوگی، جس سے تمام ادائیگیاں ایک مربوط ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔
سعودی حکام نے اس مقصد کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے دس ہزار سے زائد رجسٹرڈ ریستورانوں کو نسک پلیٹ فارم سے منسلک کر دیا ہے۔ ہر زائر کو ویزا جاری ہونے سے قبل ایک منفرد بی آر این میل کوڈ فراہم کیا جائے گا، جس کی مدد سے وہ صرف منظور شدہ مراکز سے کھانے کی سہولت حاصل کر سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عمرہ زائرین کو معیاری، محفوظ اور شفاف انداز میں خوراک کی فراہمی یقینی بنانا، غیر رجسٹرڈ سروس فراہم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور تمام انتظامات کو جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت لانا ہے۔
ادھر نئی پالیسی کے بعد عمرہ پیکجز کی مجموعی لاگت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹور آپریٹرز اپنے پیکجز میں لازمی خوراکی اخراجات شامل کرنے کے لیے نئی قیمتوں اور خدمات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات آئندہ دنوں میں عمرہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور زائرین دونوں پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔