حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سوات حملے پر ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کا بڑا مطالبہ، ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے شکنجے میں لایا جائے Home / پاکستان /

سوات حملے پر ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کا بڑا مطالبہ، ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے شکنجے میں لایا جائے

ایڈیٹر - 04/08/2026
سوات حملے پر ہیومن رائیٹس  کمیشن آف پاکستان کا بڑا مطالبہ، ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے شکنجے میں لایا جائے

ویب ڈیسک: ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے ضلع سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث تمام عناصر کو بلاامتیاز انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سوات میں ہونے والے افسوسناک حملے میں کم از کم 17 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ ادارے نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔

بیان کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا جب مقامی شہری علاقے میں امن و امان کی خراب صورتحال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جس کے باعث سیکیورٹی انتظامات اور حفاظتی اقدامات پر بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے بلوچستان کے ضلع خاران میں پولیس تھانے اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے دفاتر پر حملوں کو بھی نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مسلسل سنگین رخ اختیار کر رہی ہے۔

کمیشن نے زور دیا کہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف ہر کارروائی قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

بیان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ سوات اور خاران کے حملوں میں ملوث عناصر کو فوری طور پر قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دیرپا سیکیورٹی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔