ویب ڈیسک: پشاور کے علاقے شاہ پور میں نوجوان نوید کے پراسرار قتل کی تحقیقات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں، جبکہ واقعے کے مختلف پہلو سامنے آنے کے بعد شہریوں اور اہلِ خانہ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق چند روز قبل تھانہ شاہ پور کی حدود، غفار ٹاؤن وڈپگہ کے کھیتوں سے نوید کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ مقتول پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا، تاہم قتل کی وجوہات اور ملزمان کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے والے روز نوید مسجد کے قاری کے لیے کھانا لے کر گیا تھا، مگر کافی دیر تک واپس نہ آنے پر اس کی تلاش شروع کی گئی۔ بعد ازاں اس کی لاش قریبی زرعی اراضی سے ملی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ورثا کے مطابق مقتول پیشے کے اعتبار سے کارپینٹر تھا اور مستقبل میں بہتر روزگار کے لیے سعودی عرب جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس کا پاسپورٹ بھی تیار ہو چکا تھا اور جلد ہی اسے اپنے بھائی کے پاس بھیجا جانا تھا، لیکن روانگی سے پہلے ہی یہ افسوسناک واقعہ پیش آ گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم ابھی تک قتل کی اصل وجہ اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیرجانبدار اور تیز رفتار تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔