ویب ڈیسک: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف متوقع فوجی کارروائی فی الحال روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا سلسلہ آج دوپہر سے شروع ہو رہا ہے، جبکہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ ایک مخصوص مذاکراتی طریقہ کار کے تحت بات چیت کی جائے گی تاکہ کشیدگی کا پُرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی درخواستوں کے بعد فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ اسرائیل نے بھی فی الحال حملہ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ان کی اولین ترجیح جنگ نہیں بلکہ ایسا جامع معاہدہ ہے جو خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بن سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے، اس لیے مذاکرات کو ہر ممکن موقع دینا ضروری ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ممکنہ معاہدے کے لیے دو بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ آبنائے ہرمز کو عالمی بحری تجارت کے لیے مکمل، فوری اور مستقل طور پر کھولا جائے، جبکہ دوسری شرط کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو امریکا کے پاس ہر ممکن کارروائی کا اختیار موجود ہے۔ ان کے بقول خطے میں امریکی فوجی تیاری غیر معمولی سطح پر ہے اور ایسی عسکری تیاری ماضی کی کئی دہائیوں میں دیکھنے میں نہیں آئی۔
دوسری جانب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے کئی علاقائی ممالک نے سرگرم سفارتی کردار ادا کیا۔ بتایا گیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے رابطہ کرکے تحمل سے کام لینے پر زور دیا، جبکہ پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ نے بھی سفارتی سطح پر تنازع کم کرنے کی کوششیں تیز کیں۔
اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت عمان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام سے رابطے کیے اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ادھر ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یورپ میں تعینات امریکا کے اعلیٰ فوجی کمانڈر الیکسز گرینکیوچ نے بھی پینٹاگون کو خبردار کیا تھا کہ ایران کے ممکنہ میزائل حملوں کی صورت میں اسرائیل کو مکمل تحفظ فراہم کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے، جس کے باعث سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔