حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
دیر بالا میں ہیضے کی وباء آؤٹ آف کنٹرول: روزانہ 600 سے زائد مریض ہسپتال منتقل، مجموعی تعداد 3 ہزار سے تجاوز Home / پاکستان /

دیر بالا میں ہیضے کی وباء آؤٹ آف کنٹرول: روزانہ 600 سے زائد مریض ہسپتال منتقل، مجموعی تعداد 3 ہزار سے تجاوز

ایڈیٹر - 02/08/2026
دیر بالا میں ہیضے کی وباء آؤٹ آف کنٹرول: روزانہ 600 سے زائد مریض ہسپتال منتقل، مجموعی تعداد 3 ہزار سے  تجاوز

دیر بالا میں ہیضے کی وباء شدت اختیار کر گئی؛ مجموعی کیسز 3 ہزار سے بڑھ گئے، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی انتظامات نافذ

دیر بالا: خیبر پختونخوا کے دور آفتادہ ضلع دیر بالا میں ہیضے (کالرا) کی وباء نے ہولناک شکل اختیار کر لی ہے، جس کے باعث پچھلے چند روز کے دوران پبلک ہیلتھ انفراسٹرکچر اور مقامی طبی نظام پر شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز (ڈی ایچ کیو) ہسپتال دیر بالا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر صاحبزادہ امتیاز کے مطابق، ضلع کے مختلف علاقوں میں وباء سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں خواتین، معصوم بچے اور عمر رسیدہ افراد کی بڑی تعداد شامل ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ صرف ایک ہی روز کے اندر 600 کے قریب نئے مریضوں کو ایمرجنسی میں ہسپتال لایا گیا ہے۔ 

ذرائع کے مطابق، وباء کا پھیلاؤ مخصوص علاقوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ڈوگ درہ، براول، عشیری درہ، شرینگل اور دیر خاص جیسے مضافاتی و دور دراز کے علاقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مریضوں کی غیر معمولی آمد کے باعث ڈی ایچ کیو ہسپتال کے تمام وارڈز مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور بستروں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اس بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے ہسپتال انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر اضافی وارڈز قائم کر دیے ہیں اور عملے کی شفٹوں میں اضافہ کر کے ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ بعض شدید تشویشناک حالت کے مریضوں کو بہتر طبی امداد کے لیے دوسرے اضلاع کے بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی خصوصی پبلک ہیلتھ ٹیمیں وباء کی وجوہات جاننے اور اس پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بارشوں کے بعد پینے کے پانی کے قدرتی ذخائر اور پائپ لائنوں میں آلودہ پانی کی شمولیت اس وباء کی بنیادی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت نے شہریوں کے لیے فوری ہیلتھ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سخت تاکید کی ہے کہ وہ پینے کے لیے صرف ابلا ہوا یا کلورین سے صاف کیا ہوا پانی استعمال کریں، ذاتی اور ماحولیاتی صفائی کا خاص خیال رکھیں، اور الٹی یا موشن جیسی علامات ظاہر ہوتے ہی بغیر کسی تاخیر کے فوری قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں تاکہ قیمتی جانوں کا زیاں روکا جا سکے۔