ویب ڈیسک: ایران نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فوجی مداخلت یا جارحیت کی صورت میں اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری حملہ کرنے والے فریق پر عائد ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی تازہ صورتحال پر پاکستان کے آرمی چیف، سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور ترکی کے وزیر خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے کی سلامتی، سفارتی صورتحال اور حالیہ تناؤ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ ایران اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ہر اقدام کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے کسی بھی نوعیت کی عسکری کارروائی کی تو تہران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی علاقائی ملک نے ایسی کارروائی میں کسی بھی سطح پر کردار ادا کیا تو ایران اس کے خلاف بھی سخت ردعمل اختیار کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔