ویب ڈیسک: وفاقی حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان اہم امور پر تبادلۂ خیال بھی ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں کو حکومت مخالف مشترکہ تحریک میں شمولیت کی تجویز دی، تاہم جمعیت نے فی الحال کسی مشترکہ احتجاج کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مکمل اعتماد کی بحالی کے بعد ہی کسی مشترکہ لائحۂ عمل پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں میں صرف احتجاجی تحریک ہی نہیں بلکہ آئندہ انتخابات کے تناظر میں ممکنہ سیاسی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
دریں اثنا، پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے براہِ راست ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے خلاف مؤثر سیاسی تحریک چلانے کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان مثبت ہم آہنگی موجود ہے، جبکہ متعدد اہم معاملات پر اتفاقِ رائے کی جانب پیش رفت بھی جاری ہے۔ تاہم مشترکہ احتجاج کے حتمی فیصلے سے قبل مزید مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔