مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی 2026 کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے چلائی جانے والی بھرپور انتخابی مہم وقت کی میعاد ختم ہونے پر باضابطہ طور پر ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد اب کل بروز اتوار (2 اگست) کو مظفرآباد ڈویژن کے 3 اضلاع اور پاکستان بھر میں قائم 12 مہاجر نشستوں پر پولنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز اور انتخابی سامان کی ترسیل سمیت تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے تین اہم اضلاع—مظفرآباد، نیلم اور جہلم ویلی—کے 9 انتخابی حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ان اضلاع میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 8 لاکھ 90 ہزار 621 ہے، جس میں 4 لاکھ 27 ہزار 955 مرد اور 3 لاکھ 81 ہزار 666 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ پرامن پولنگ کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے مجموعی طور پر 1 ہزار 483 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
اسی مرحلے کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص قانون ساز اسمبلی کی 12 نشستوں پر بھی کل ہی پولنگ ہوگی۔ ان میں جموں کی 6 نشستیں (ایل اے 34 سے ایل اے 39) اور کشمیر ویلی کی 6 نشستیں (ایل اے 40 سے ایل اے 45) شامل ہیں، جہاں مہاجرین اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر کے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
دوسری جانب اسلام آباد اور مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن ایک مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو کسی بھی بیرونی ڈکٹیشن یا ہدایت پر کام نہیں کرتا۔ انہوں نے روایتی سیاسی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں ہارنے والے اکثر دھاندلی کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ کل گھروں سے نکلیں اور ووٹ کے عمل میں حصہ لیں، کیونکہ اگر عوام لاپرواہی کا مظاہرہ کریں گے تو مسائل جلسے جلوسوں یا احتجاج سے حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا مشکل ترین اور حساس ترین انتخاب ہے، اور خبردار کیا کہ اگر سیکیورٹی اور سیاسی حالات سازگار نہ رہے تو راولاکوٹ میں ہونے والے انتخابی مرحلے کو آگے پیچھے (ملتوی) کیا جا سکتا ہے۔