دیر بالا: خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا کے متعدد علاقوں میں ہیضے کی وباء نے وبائی صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے باعث اب تک 3 ہزار سے زائد شہری متاثر ہو چکے ہیں۔ وباء کے اچانک پھیلاؤ کی وجہ سے مقامی ہسپتالوں پر مریضوں کا شدید دباؤ بڑھ گیا ہے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال دیر بالا میں مزید مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش ختم ہو گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں عشیرئی درہ، شرینگل، براول اور دیر خاص شامل ہیں، جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہیضے کے سینکڑوں نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال دیر بالا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر صاحبزادہ امتیاز نے میڈیا کو بتایا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور صرف گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 600 سے زائد مریضوں کو ہسپتال لایا گیا ہے، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ایم ایس کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال میں گنجائش ختم ہونے کے باعث بعض شدید علامات والے مریضوں کو، جن کی حالت نازک ہے، ابتدائی طبی امداد کے بعد دیگر اضلاع کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، دیر بالا میں صحت کے اس سنگین بحران کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی خصوصی پبلک ہیلتھ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔ یہ ٹیمیں وباء کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ جاننے کے لیے پینے کے پانی کے مختلف ذرائع کے معیار کی جانچ کر رہی ہیں، جبکہ متاثرہ دیہاتوں میں کلورین کی گولیاں تقسیم کرنے اور صاف پانی کی ہنگامی فراہمی کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ماہرینِ صحت نے مقامی آبادی کے لیے ہنگامی ہیلتھ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ شہری پانی ابال کر استعمال کریں، کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانپ کر رکھیں اور ذاتی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک پانی کے آلودہ ذرائع کو صاف نہیں کیا جاتا، وباء پر مکمل قابو پانا مشکل ہوگا، تاہم طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر کے نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔