حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
شانگلہ کے 28 نوجوان مزدور جاں بحق، ایک ہی گاؤں میان کلے کے 23 جنازے اٹھنے پر کہرام مچ گیا Home / پاکستان /

شانگلہ کے 28 نوجوان مزدور جاں بحق، ایک ہی گاؤں میان کلے کے 23 جنازے اٹھنے پر کہرام مچ گیا

ایڈیٹر - 01/08/2026
شانگلہ کے 28 نوجوان مزدور جاں بحق، ایک ہی گاؤں میان کلے کے 23 جنازے اٹھنے پر کہرام مچ گیا

کوئٹہ/شانگلہ: بلوچستان کے علاقے سورینج کے قریب واقع کوئلہ کان میں میتھین گیس کے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 28 نوجوان کان کن جاں بحق ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والے مزدوروں میں سے 23 کا تعلق ایک ہی گاؤں 'میان کلے' (پیر آباد) سے تھا، جس کے باعث پورے ضلع میں فضا سوگوار ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ لواحقین نے کانوں میں بنیادی حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی اور حکومتی غفلت کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع سورنگ کول فیلڈ میں میتھین گیس جمع ہونے کے باعث زوردار دھماکہ ہوا، جس نے قریبی دوسری کان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دھماکے کے بعد کانوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ان کا اندرونی ڈھانچہ بیٹھ گیا۔ چیف انسپکٹر آف مائنز بلوچستان، محمد عاطف کے مطابق حادثے کے وقت دونوں کانوں میں مجموعی طور پر 34 مزدور موجود تھے۔ ریسکیو حکام نے اب تک انتہائی مخدوش حالت میں 32 لاشیں باہر نکال لی ہیں، جبکہ باقی ماندہ 2 لاشوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

شانگلہ کول مائن ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر عابد یار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی عمریں محض 17 سے 25 سال کے درمیان تھیں، جن میں 3 سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی نوجوان آپس میں قریبی رشتہ دار تھے، جبکہ بعض کے آباء و اجداد بھی ماضی میں ایسے ہی کان کنی کے حادثات میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ عابد یار نے مائنز انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کان کے اندر ہوا کی آمد و رفت (وینٹیلیشن) کا کوئی مناسب انتظام نہیں تھا، جو اس سانحے کی بنیادی وجہ بنا۔

متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور مقامی انتظامیہ کی بے حسی پر شدید شکوہ کیا ہے کہ ان کے پیاروں کی میتیں آبائی علاقوں تک منتقل کرنے کے لیے سرکاری سطح پر کوئی ایمبولینس یا سفری سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث غریب لواحقین کو بھاری ذاتی اخراجات اٹھا کر پرائیویٹ گاڑیوں کے ذریعے لاشیں منتقل کرنی پڑیں۔ انتظامیہ کے مطابق بیشتر میتیں رات گئے اور ہفتے کی صبح تک شانگلہ پہنچ چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ المناک حادثہ ایک بار پھر بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں مروجہ حفاظتی قوانین پر عملدرآمد، مانیٹرنگ کے ناقص نظام اور مزدوروں کے حقوق کی پامالی کا پردہ چاک کرتا ہے۔