حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
کشمیر میں احتجاج 2 ماہ سے جاری ہے، حکومت طاقت کے ذریعے تحریک کچلنے پر ڈٹی رہی، مولانا فضل الرحمان Home / سیاست /

کشمیر میں احتجاج 2 ماہ سے جاری ہے، حکومت طاقت کے ذریعے تحریک کچلنے پر ڈٹی رہی، مولانا فضل الرحمان

ایڈیٹر - 01/08/2026
کشمیر میں احتجاج 2 ماہ سے جاری ہے، حکومت طاقت کے ذریعے تحریک کچلنے پر ڈٹی رہی، مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر میں عوامی تحریک کو مذاکرات کے بجائے خالصتاً ریاستی طاقت کے بل بوتے پر کچلنے کی پالیسی پر بضد رہی ہے۔

اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں عوامی احتجاج اور دھرنے گزشتہ دو ماہ سے مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 5 جون کو جب خطے میں حالات انتہائی کشیدہ اور دھماکہ خیز ہوئے، تو عوامی ایکشن کمیٹی نے بحران کے حل کے لیے ان سے ثالثی کی باقاعدہ درخواست کی تھی۔

مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا کہ کمیٹی نے ان کی شخصیت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا تھا، لیکن حکومتی حلقوں نے اس سیاسی و سفارتی کوشش کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتدر حلقے اور حکومت سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال پر اصرار کرتے رہے، جس کی وجہ سے بحران مزید طول پکڑ گیا۔

سربراہ جے یو آئی نے کشمیری عوام کی جدوجہد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مظاہرین کے صبر، استقامت اور برداشت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ عوامی تحریک اب محض ایک علاقے تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے کشمیر سمیت دنیا بھر میں پھیلتی جا رہی ہے۔

انہوں نے ریاستی اداروں اور طاقتور حلقوں پر زور دیا کہ وہ تشدد اور خون ریزی کا راستہ ترک کر کے صلح، آشتی اور بامقصد مذاکرات کی طرف آئیں۔ اس کے ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان نے عوامی ایکشن کمیٹی سے پرزور اپیل کی کہ وہ حکومت کو مزید مہلت دیں اور فی الحال کسی بھی بڑے یا انتہائی اقدام سے گریز کریں تاکہ پرامن حل کی راہیں مسدود نہ ہوں۔