اسلام آباد: وفاقی بجٹ 27-2026 میں پنشنرز کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کے باضابطہ اعلان کے باوجود ملک بھر کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین کو یکم اگست کو اضافہ شدہ رقم منتقل نہیں کی جا سکے گی۔ متعلقہ حکام کی جانب سے پنشنرز کو معمول کے مطابق پرانی شرح پر ہی ادائیگیاں کی جائیں گی جس کے باعث ریٹائرڈ سرکاری ملازمین میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس انتظامی تاخیر کی بنیادی وجہ پنشن میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن انتہائی تاخیر سے جاری ہونا ہے۔ وفاقی حکومت نے پنشن میں 7 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن ادائیگیوں کی تاریخ سے محض دو روز قبل، یعنی 29 جولائی کو جاری کیا۔ وقت کی شدید قلت اور محدود ترین مہلت کے باعث بینکنگ نظام اور متعلقہ اکاؤنٹس دفاتر کے لیے ملک بھر کے لاکھوں پنشنرز کا ڈیٹا نئی شرح کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہ ہو سکا۔
اکاؤنٹس حکام کا کہنا ہے کہ پنشنرز کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اگست کے مہینے کا یہ تکنیکی تعطل اگلے ماہ دور کر دیا جائے گا۔ ستمبر 2026 میں ادا کی جانے والی پنشن میں 7 فیصد کا یہ اضافہ شامل ہوگا، اور اس کے ساتھ ہی اگست کے مہینے کے واجب الادا بقایا جات (Arrears) بھی یکمشت ادا کر دیے جائیں گے۔
دوسری جانب، اس انتظامی تاخیر اور حاضر سروس سرکاری ملازمین کے مقابلے میں پنشنرز کو مسلسل کم ریلیف دیے جانے پر ریٹائرڈ ملازمین کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پنشنرز کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں محض 7 فیصد اضافہ پہلے ہی ناکافی تھا، اور اب نوٹیفکیشن میں سست روی کے باعث اس معمولی ریلیف کی فراہمی میں تاخیر نے ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔