ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ تیل کی سپلائی میں فوری رکاوٹ کے خدشات کا کم ہونا قرار دیا جا رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب کے اہم بحری راستے سے تیل بردار جہازوں کی مسلسل آمدورفت اور متبادل بحری راستوں کے استعمال نے عالمی منڈی کو یہ اعتماد دیا ہے کہ خام تیل کی ترسیل فی الحال شدید متاثر نہیں ہوگی، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ کم ہوا۔
تازہ کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.42 فیصد کمی کے بعد 89.45 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 0.66 فیصد سستا ہو کر 83.90 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خطے میں فوجی کشیدگی بدستور برقرار ہے اور امریکا و ایران کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات موجود ہیں، تاہم بحری نقل و حمل معمول کے مطابق جاری رہنے سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں واضح کمی آئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری سیشن میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جب برینٹ خام تیل تقریباً 8 فیصد جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 6.5 فیصد سے زائد مہنگا ہو گیا تھا۔ تاہم تازہ سیشن میں مارکیٹ کا رجحان نسبتاً مستحکم ہونے سے قیمتوں میں نرمی ریکارڈ کی گئی، جسے توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔