حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
غیر ملکی دستاویزی فلم پر پاکستان کا سخت ردعمل، دفتر خارجہ نے اصل حقائق سامنے رکھ دیے،ایٹمی سلامتی پر دوٹوک مؤقف Home / پاکستان /

غیر ملکی دستاویزی فلم پر پاکستان کا سخت ردعمل، دفتر خارجہ نے اصل حقائق سامنے رکھ دیے،ایٹمی سلامتی پر دوٹوک مؤقف

ایڈیٹر - 30/07/2026
غیر ملکی دستاویزی فلم پر پاکستان کا سخت ردعمل، دفتر خارجہ نے اصل حقائق سامنے رکھ دیے،ایٹمی سلامتی پر دوٹوک مؤقف

ویب ڈیسک: پاکستان نے جرمن نشریاتی ادارے ڈیوچے ویلے کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق نشر کی گئی دستاویزی فلم کو حقائق کے منافی، گمراہ کن اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ مذکورہ دستاویزی فلم کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور قومی سلامتی سے متعلق بے بنیاد شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے زور دیا کہ عالمی میڈیا اداروں کو پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں، غیر جانبداری اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو ہر صورت مقدم رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے مضبوط، محفوظ اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام پر مکمل اعتماد رکھتا ہے، جو عالمی معیار کے مطابق کام کر رہا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب افغانستان کے لیے امریکا کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس دستاویزی فلم کو شیئر کرتے ہوئے اس کی حمایت کی۔ انہوں نے فلم میں پیش کیے گئے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی داخلی صورتحال اور ایٹمی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب پاکستان کے تعلیمی، دفاعی اور صحافتی حلقوں نے بھی اس دستاویزی فلم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر رابیہ اختر نے کہا کہ فلم میں پہلے سے طے شدہ بیانیے کو تقویت دینے کے لیے حقائق کو منتخب انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ پاکستان کے مؤثر حفاظتی نظام اور ایٹمی سلامتی کے اقدامات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے اسے پاکستان کے خلاف پرانے الزامات کو نئے انداز میں دہرانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم میں خطے کے تاریخی پس منظر اور پاکستان کے مؤقف کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

معروف صحافی سید طلعت حسین نے بھی دستاویزی فلم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مسترد شدہ بیانیوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ صحافی فخر درانی نے دعویٰ کیا کہ یہ فلم پہلے ایک اور پلیٹ فارم پر موجود تھی اور بعد ازاں اسے نئے انداز میں پیش کیا گیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے قائم نظام بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے، اس لیے بے بنیاد دعووں اور قیاس آرائیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔