ویب ڈیسک: اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے اور اگر انہیں گرفتار کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو ان کے تحفظ کے لیے خصوصی سیکیورٹی دستے متحرک ہوں گے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اپنے مجوزہ دورۂ امریکا کو مؤخر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ گرفتاری کی کسی بھی کوشش سے نمٹنے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات پہلے سے موجود ہوں گے، تاہم انہوں نے ان دستوں کی نوعیت یا ان کے اختیارات سے متعلق مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پہلے ہی نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری وارنٹ گرفتاری بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
اسی دوران ایک حالیہ عوامی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی شہریوں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک پہنچتے ہیں تو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ ایک قابلِ ذکر تعداد اس مؤقف سے اختلاف بھی رکھتی ہے۔
انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیرِاعظم نے ظہران ممدانی پر الزام لگایا کہ وہ نیویارک میں یہودی برادری کے خلاف نفرت کو ہوا دینے اور شہریوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ادارے کو غیر جانبدار نہیں سمجھتے۔ ان کے بقول، اگر اس نوعیت کے فیصلوں کو نظیر بنایا گیا تو مستقبل میں امریکی حکام اور فوجی اہلکار بھی اسی طرح کی کارروائیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا کہ اسرائیل پر کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور فوجی جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ ابراہیم معاہدوں کا دائرہ مزید وسیع ہو اور مستقبل میں سعودی عرب بھی اس سفارتی عمل کا حصہ بنے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ بیانات ان کے متوقع دورۂ نیویارک، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔