ویب ڈیسک: ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے معاملے پر امریکی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان حکمت عملی سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام اس بات پر متفق نہیں کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو موجودہ سطح تک محدود رکھا جائے یا انہیں مزید وسعت دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فضائی کارروائی کے حامی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی تجویز کے مطابق حملوں کا سلسلہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رکھا جا سکتا ہے تاکہ ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید نقصان پہنچایا جا سکے۔
اس کے برعکس جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ زیادہ محتاط حکمت عملی اختیار کرنے کے حق میں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان کا مؤقف ہے کہ امریکا کو اپنے فضائی دفاعی نظام، میزائل روکنے والے ہتھیاروں اور دیگر اہم عسکری وسائل کو محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے خطرے کی صورت میں ان کی دستیابی یقینی رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مختلف آرا کے باعث اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود رکھا جائے یا انہیں مزید شدت دی جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ میزائل حملے کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا تھا۔ ایک امریکی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کو چند ہی لمحوں میں تباہ کر دیا اور واضح کیا کہ امریکی افواج اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق امریکی قیادت میں سامنے آنے والے یہ اختلافات اس بات کا اشارہ ہیں کہ واشنگٹن ایران کے حوالے سے نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کا آئندہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔