ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے باعث سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطے کی کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر تحمل اور سفارتی حل اختیار کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ خلیجی ممالک نے بھی علاقائی امن و استحکام کے لیے رابطوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں جاری کشیدگی کے دائرہ کار میں توسیع اور خصوصاً سعودی عرب کو اس تنازع کا حصہ بنانے کی کوششوں پر شدید تشویش ہے۔
انہوں نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستانی مندوب نے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی کہ وہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور گزشتہ ماہ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں تاکہ خطے کو مزید بحران سے بچایا جا سکے۔
عاصم افتخار احمد نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل نہیں نکالا جاتا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک کے درمیان بھی اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے ہوئے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی، کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح اور بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔
رابطوں کے دوران خطے میں امن کی بحالی، کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کا محفوظ رہنا عالمی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
خلیجی رہنماؤں نے ایران اور اس کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی جانب سے عراق اور یمن سے کیے جانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ خلیج تعاون کونسل کے پلیٹ فارم سے مشترکہ دفاعی تعاون، سیکیورٹی ہم آہنگی اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔