ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے آئندہ چار برسوں کے لیے حج انتظامات کو جدید، شفاف اور مؤثر بنانے کے مقصد سے حج پالیسی 2027 سے 2030 کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پہلی بار طویل المدتی رجسٹریشن، مکمل ڈیجیٹل نظام، متعدد حج پیکیجز اور نجی شعبے کے کردار میں مرحلہ وار توسیع جیسے اہم اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔
نئی حج پالیسی کے مطابق 2027 سے 2030 تک سرکاری اور نجی حج اسکیموں کا تناسب بالترتیب 60 اور 40 فیصد برقرار رکھا جائے گا، تاہم ضرورت پڑنے پر وفاقی کابینہ اس تناسب میں تبدیلی کر سکے گی۔
پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ عازمین کو چار سال قبل ہی اپنی پسند کے سال کے لیے رجسٹریشن کرانے کی سہولت دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے متوقع حج اخراجات کا تقریباً دس فیصد بطور ابتدائی رقم جمع کرانا ہوگا، جبکہ کامیاب امیدواروں کا انتخاب شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے ذریعے ’’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
حکومت نے رہائش، فضائی سفر، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ اور سامان کی ترسیل سمیت مختلف خدمات کے لیے طویل المدتی معاہدوں کی بھی اجازت دی ہے تاکہ بہتر منصوبہ بندی، اخراجات میں کمی اور خدمات کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
سرکاری حج اسکیم کے تحت مختلف دورانیے اور سہولیات پر مشتمل متعدد حج پیکیجز بھی متعارف کرائے جائیں گے، تاکہ عازمین اپنی ضروریات اور مالی استطاعت کے مطابق مناسب پیکیج کا انتخاب کر سکیں۔
پالیسی کے مطابق حج کے تمام مراحل، جن میں رجسٹریشن، ادائیگیاں، نگرانی، شکایات کا ازالہ اور بعد از حج جائزہ شامل ہیں، مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ نجی حج کمپنیوں کے لیے خصوصی حج مینجمنٹ پورٹل کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگیوں، نگرانی اور آڈٹ کا عمل انجام پائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں اس کا کردار براہِ راست انتظامات چلانے کے بجائے نگرانی، ضابطہ بندی اور خدمات کے معیار کو یقینی بنانے پر مرکوز ہوگا، جبکہ نجی شعبے کی شمولیت بتدریج بڑھائی جائے گی۔
نئی پالیسی میں نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن کو ان کی کارکردگی، مقررہ معیار پر عمل درآمد اور شفافیت سے مشروط کیا گیا ہے۔ تمام مالی معاملات صرف حکومت کی منظور شدہ بینکاری سہولت کے ذریعے انجام دیے جائیں گے تاکہ مالی تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب میں تمام خریداری اور معاہدے متعلقہ سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق کیے جائیں گے، جبکہ حج آپریشن کے اختتام پر اگر عازمین کی جمع کرائی گئی رقم میں سے کوئی رقم بچ گئی تو وہ انہیں واپس کر دی جائے گی۔
پالیسی میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے حج انتظامات کا آزاد اداروں سے جائزہ اور آڈٹ کرانے کی بھی شق شامل کی گئی ہے۔ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید ڈیجیٹل شکایتی نظام، مؤثر نگرانی اور اپیل کا باقاعدہ طریقۂ کار بھی متعارف کرایا جائے گا۔
حج معاونین کے انتخاب کو مکمل طور پر میرٹ سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ عازمین کی تربیت میں مناسک حج، موبائل ایپلی کیشنز کے استعمال، صحت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور سعودی قوانین سے متعلق رہنمائی کو بھی شامل کیا جائے گا۔
حجاج محافظ اسکیم کو بھی برقرار رکھا گیا ہے، جس کے تحت دورانِ حج حادثہ، وفات یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے خصوصی ایمرجنسی رسپانس ٹیم اور جدید ایمرجنسی مینجمنٹ نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت کے مطابق نئی حج پالیسی کو سعودی عرب کے وژن 2030 اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ حج انتظامات میں شفافیت، جوابدہی، ڈیجیٹل گورننس اور عازمین کو عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔