طورخم بارڈر پر افغانستان واپس جانے والے ایک افغان شہری اپنی پاکستانی اہلیہ سے جدائی کے غم میں آبدیدہ ہو گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ اس نے پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی لڑکی سے شادی کر رکھی ہے، تاہم موجودہ حکومتی پالیسی کے باعث اس کی اہلیہ پاکستان میں رہ گئی ہے جبکہ اسے افغانستان واپس جانا پڑ رہا ہے۔افغان شہری نے روتے ہوئے کہا کہ اپنی بیوی کو پاکستان میں چھوڑ کر جانا اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک لمحہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسے افغان شہریوں کے لیے، جنہوں نے قانونی طور پر پاکستانی خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں،خصوصی اور واضح پالیسی یا سہولت کا اعلان کیا جائے تاکہ انہیں افغانستان واپسی، سفری دستاویزات اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش کے معاملات میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس نے مزید کہا کہ خاندانوں کی علیحدگی ایک انسانی مسئلہ ہے، اس لیے حکومت کو ایسے معاملات کے حل کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہییں تاکہ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا پڑے اور وہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے باعزت طریقے سے اپنی ازدواجی زندگی جاری رکھ سکیں