بریشیا، اٹلی : اٹلی کے شہر بریشیا میں پیش آنے والے ایک انتہائی دردناک اور لرزہ خیز واقعے نے وہاں مقیم پاکستانی برادری سمیت مقامی اطالوی کمیونٹی کو شدید سوگوار کر دیا ہے۔ بریشیا کے مشہور 'پارکو دے لے کاوے' میں واقع جیرولوٹو جھیل میں نہاتے ہوئے 14 سالہ پاکستانی نژاد نوجوان کامران احمد ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ یہ جھیل سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوام کے نہانے کے لیے قانوناً ممنوع قرار دی گئی تھی، تاہم شدید گرمی کی لہر سے بچنے کی کوشش میں یہ معصوم نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔
اطالوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، کامران احمد جمعہ کی صبح اپنی 18 سالہ بڑی بہن کے ہمراہ جھیل کے کنارے گیا تھا۔ موسم کی تپش سے بچنے کے لیے دونوں بہن بھائی قانوناً ممنوعہ پانی میں اتر گئے۔ کچھ ہی دیر بعد بہن گہرے پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آ کر مشکل کا شکار ہو گئی، جسے ڈوبتا دیکھ کر کامران نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ اگرچہ اس کی بہن کسی نہ کسی طرح محفوظ کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی، تاہم کامران خود تیرنا نہ جاننے کے باعث گہرے پانی کی بے رحم لہروں کی نذر ہو گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ایمرجنسی سروسز، فائر بریگیڈ، اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ حادثے کی سنگینی کے پیش نظر میلان سے غوطہ خوروں کی خصوصی ٹیمیں اور بولونیا سے فائر بریگیڈ کا ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو آپریشن کے لیے طلب کیا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی طویل اور کٹھن تلاش کے بعد غوطہ خوروں نے کامران کی لاش جھیل کی 12 میٹر گہرائی سے نکال لی، تاہم اس وقت تک وہ دم توڑ چکا تھا اور ڈاکٹروں نے موقع پر ہی اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ واضح رہے کہ کامران احمد بریشیا ہی میں پیدا ہوا تھا اور مقامی فٹبال کلب کی جونیئر ٹیم کا ایک ابھرتا ہوا کھلاڑی تھا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق، اٹلی میں ہر سال ایسے درجنوں واقعات پیش آتے ہیں جہاں دریاؤں اور جھیلوں کی خطرناک زمینی ساخت سے ناواقفیت کے باعث معصوم جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔