ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور کی شہری ترقی کے منصوبے کے تحت شہر کے 34 پارکوں کی اپ گریڈیشن کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت دارالحکومت کو جدید، خوبصورت اور شہری ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد بڑے منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور کی بحالی کے جامع منصوبے کے تحت جاری تمام ترقیاتی اسکیمیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں گی تاکہ شہریوں کو بہتر تفریحی، سفری اور بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں جدید عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کے قیام کے لیے شہری ریل منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا، جبکہ آؤٹر رنگ روڈ منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بن چکا ہے اور اس کی فنی و معاشی جانچ آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود موجودہ صوبائی حکومت نے ریکارڈ ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں محصولات کی وصولی مقررہ ہدف سے زیادہ رہی، جبکہ رواں سال محصولات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا بلکہ غیر ضروری اخراجات کم کرکے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کی ہے، جس سے مالی وسائل کو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
انہوں نے سیاسی امور پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات، بڑھتے قرضے اور صنعتی و زرعی شعبوں کو لاحق مسائل موجودہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا، تاہم صوبائی حکومت اپنے آئینی اور مالی حقوق کے حصول کے لیے ہر فورم پر مؤثر انداز میں آواز بلند کرتی رہے گی۔
انہوں نے کارکنوں اور عوام سے پانچ اگست کو پشاور ٹول پلازہ پر منعقد ہونے والے جلسے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع میں آئندہ سیاسی حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق اہم اعلانات کیے جائیں گے۔
تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں میرٹ، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر خدمات اور ترقی کے ثمرات فراہم کیے جا سکیں۔