قصور/لاہور : چھانگا مانگا کے نواحی علاقے میں ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر زہریلا کھانا کھانے سے دو سگی بہنیں جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ان کے والدین کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور پولیس نے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق، چھانگا مانگا کے نواحی گاؤں 'نارجن سنگھ' سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد کو شدید تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتال لایا گیا تھا، جہاں ان کی نازک حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر لاہور کے بڑے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم، ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود دونوں لڑکیاں جانبر نہ ہو سکیں اور دم توڑ گئیں۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زہر خورانی (فوڈ پوائزننگ) کی نوعیت انتہائی شدید تھی۔
طبی ذرائع نے مزید تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والی لڑکیوں کے والدین کی حالت بھی تاحال خطرے سے باہر نہیں ہے، جنہیں آئی سی یو (ICU) میں ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کھانے کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ یہ محض فوڈ پوائزننگ کا حادثہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ سرگرمی کارفرما تھی۔