حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
تمام خطرناک ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں 15 دن میں انسانی آبادیوں اور گھروں سے باہر منتقل کرنے کا حتمی حکم Home / پاکستان /

تمام خطرناک ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں 15 دن میں انسانی آبادیوں اور گھروں سے باہر منتقل کرنے کا حتمی حکم

ایڈیٹر - 28/07/2026
 تمام خطرناک ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں 15 دن میں انسانی آبادیوں اور گھروں سے باہر منتقل کرنے کا حتمی حکم

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے، سست روی کا شکار ترقیاتی منصوبوں اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں تمام خطرناک ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنوں کو 15 دن کے اندر انسانی آبادیوں اور گھروں کے اوپر سے باہر منتقل کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور میں منعقدہ اس اہم اجلاس میں بجلی کے نظام اور پاور انفراسٹرکچر سے جڑے متعدد منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق پشاور اور جنوبی اضلاع کے لیے ترقیاتی کاموں کو 30 ستمبر 2026 تک، جبکہ باقی ماندہ صوبائی منصوبوں کو ہر صورت دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا کہ کمپنیوں کی غلطی یا سست روی کی وجہ سے منصوبوں پر آنے والے اضافی اخراجات صارفین یا صوبائی حکومت سے وصول نہیں کیے جائیں گے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے بھر کے 1,182 فیڈرز میں سے پشاور کے 30 اور دیگر اضلاع کے 400 سے زائد فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ سے پاک قرار دیا جا چکا ہے، تاہم بعض علاقوں میں غیر معلنہ لوڈ شیڈنگ اور لو وولٹیج کے مسائل پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ پیسکو، ہیسکو اور ٹیسکو کے سربراہان کو 15 دن کے اندر ان نقائص کو دور کرنے اور 30 دن کے اندر تمام خراب ٹرانسفارمرز کو فعال بنانے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ مزید برآں، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور خیبر پختونخوا پولیس کو ٹرانسفارمرز، تاروں کی چوری اور بجلی چور مافیا کے خلاف 15 دن کے اندر بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔