ویب ڈیسک: فلسطین کے حامی مظاہرین نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچنے والے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔
مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے خلاف مختلف نعروں پر مشتمل بینرز بھی لہرائے۔ احتجاج میں شامل افراد نے امریکا کی جانب سے اسرائیل کی عسکری معاونت پر تنقید کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے میں موجود بینرز پر درج پیغامات میں "امریکی اسرائیلی جنگی مشین کو روکو"، "واشنگٹن پر اسرائیلی اثر و رسوخ بے نقاب کرو" اور "فلسطینی انسانی حقوق بھی اہم ہیں" جیسے نعرے شامل تھے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن ڈی سی پہنچے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات منگل کو وائٹ ہاؤس میں متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد یہ بنیامین نیتن یاہو کی ٹرمپ سے آٹھویں ملاقات ہوگی۔ ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم ریپبلکن سینیٹر آنجہانی لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو اسرائیل کے طویل عرصے سے حامی سمجھے جاتے تھے۔
دوسری جانب غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی حمایت کرنے پر امریکا کو عالمی سطح پر مسلسل تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی تعاون نے جنگ کے اثرات کو بڑھایا، جبکہ غزہ میں جاری بحران کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔