حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
سماجی تحفظ کے منصوبوں میں 14 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف، بڑے ادارے آڈٹ کی زد میں Home / پاکستان /

سماجی تحفظ کے منصوبوں میں 14 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف، بڑے ادارے آڈٹ کی زد میں

ایڈیٹر - 28/07/2026
سماجی تحفظ کے منصوبوں میں 14 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف، بڑے ادارے آڈٹ کی زد میں

ویب ڈیسک: ملک کے اہم سماجی تحفظ اور فلاحی پروگراموں میں اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں تازہ آڈٹ رپورٹ میں مجموعی طور پر 14 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں اور کمزور مالی نگرانی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 2025-26 کے مطابق وفاقی سماجی بہبود اور سوشل سیفٹی نیٹ پروگراموں میں مالی معاملات، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور اندرونی کنٹرول نظام سے متعلق خامیاں سامنے آئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن اہم اداروں کا جائزہ لیا گیا ان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن اور وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ شامل ہیں۔

آڈٹ کے دوران ان اداروں کے مالی نظام، اخراجات کے طریقہ کار اور انتظامی معاملات کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق سماجی تحفظ کے پروگرام ملک کے کمزور طبقات کی معاونت کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم مالی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں متعلقہ اداروں کو مالی نظم و ضبط بہتر بنانے، کمزور کنٹرول سسٹم کو مضبوط کرنے اور بے ضابطگیوں کے تدارک کے لیے اقدامات کی سفارشات پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ آڈٹ رپورٹس میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کا مقصد سرکاری فنڈز کے استعمال کا جائزہ لینا اور نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے، جبکہ کسی بھی مالی بے قاعدگی کی حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات کے بعد کیا جاتا ہے۔