ویب ڈیسک: آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران، سعودی عرب، عمان، قطر، کویت اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جہاں علاقائی سلامتی، استحکام اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔
رپورٹ کے مطابق ان رابطوں کے دوران دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور علاقائی استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے موجودہ چیلنجز سے نمٹا جائے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزرائے خارجہ نے اس مؤقف کا بھی اظہار کیا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور عدم تحفظ کے خاتمے کے لیے مربوط سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اس عدم استحکام کی وجہ امریکا کی جارحانہ پالیسیاں ہیں۔
دوسری جانب سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے بھی علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔
سعودی میڈیا کے مطابق ان گفتگوؤں میں خطے کی سلامتی، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق قطری اور کویتی وزرائے خارجہ نے ایران اور یمن و عراق میں اس سے منسلک مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی۔
ادھر برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے بھی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق وزارت کا منصب سنبھالنے کے بعد سعودی ہم منصب سے ان کی یہ پہلی باضابطہ گفتگو تھی۔
برطانوی حکام کے مطابق ایڈ ملی بینڈ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔
خطے میں تیز رفتار سفارتی سرگرمیوں کو ماہرین خلیجی سلامتی، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کے تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔