ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ تہران اب مذاکرات اور معاہدے کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
ریاست مشی گن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اقدامات کے باعث ایران کی بحریہ، فضائیہ، اعلیٰ عسکری قیادت اور فضائی دفاعی نظام کو مؤثر طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی ڈرون اور میزائل تیار کرنے کی صلاحیت بھی بڑی حد تک متاثر ہوئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت ماضی کے مقابلے میں محض تقریباً سات فیصد رفتار سے ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن سخت مؤقف اختیار نہ کرتا تو ایران کبھی مذاکرات پر آمادہ نہ ہوتا۔ ان کے بقول موجودہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دباؤ کی پالیسی نے تہران کو بات چیت کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران کو گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کا باعث قرار دیتے ہوئے سابق امریکی صدر براک اوباما کی ایران سے متعلق پالیسی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو رعایتیں دے کر قائل نہیں کیا جا سکتا بلکہ سخت مؤقف ہی مؤثر ثابت ہوتا ہے، اور امریکا اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں، تاہم ان کا حتمی نتیجہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
اپنی گفتگو کے دوران امریکی صدر نے بحری ناکہ بندی کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کی نگرانی اس قدر مؤثر ہے کہ کوئی بھی کشتی اس ناکہ بندی کو عبور نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق ایران واشنگٹن سے اس ناکہ بندی کے خاتمے کی درخواست کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔