حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بابر اعظم کی ٹیسٹ کپتانی کے پیچھے بڑی شرط؟ بھارتی میڈیا نے نیا دعویٰ کر دیا Home / کھیل /

بابر اعظم کی ٹیسٹ کپتانی کے پیچھے بڑی شرط؟ بھارتی میڈیا نے نیا دعویٰ کر دیا

ایڈیٹر - 28/07/2026
بابر اعظم کی ٹیسٹ کپتانی کے پیچھے بڑی شرط؟ بھارتی میڈیا نے نیا دعویٰ کر دیا

ویب ڈیسک:بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم نے ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے سامنے ایک اہم شرط رکھی تھی، جس کا تعلق مستقبل میں تینوں فارمیٹس کی کپتانی سے تھا۔

بھارتی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کرکٹ بورڈ نے شان مسعود کی قیادت میں مسلسل مایوس کن نتائج کے بعد ٹیسٹ ٹیم کے لیے نئے کپتان کی تلاش شروع کی اور اس سلسلے میں بابر اعظم سے رابطہ کیا گیا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ٹیسٹ کپتان کے اعلان سے قبل دو سلیکٹرز نے بابر اعظم سے ملاقات کی، جس کے دوران انہیں قیادت سنبھالنے کی پیشکش کی گئی۔ تاہم بابر اعظم نے یہ ذمہ داری اس شرط کے ساتھ قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی کہ مستقبل میں انہیں ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی، تینوں فارمیٹس کی مشترکہ قیادت بھی سونپی جائے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بابر اعظم ماضی سے ہی قومی ٹیم کے تینوں فارمیٹس کے واحد کپتان بننے کے خواہش مند رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سلیکٹرز نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ اگر پاکستان ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں بہتر نتائج دیتا ہے تو تینوں فارمیٹس کی کپتانی کے معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت ایک روزہ ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کے پاس ہے، جبکہ وہ بھی ماضی میں مختصر عرصے کے لیے ٹی ٹوئنٹی کپتانی سے ہٹائے جانے کے باعث قیادت کے حوالے سے تلخ تجربہ رکھتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے تقریباً دو ماہ تک شان مسعود کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد قیادت میں تبدیلی پر غور کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2023 سے شان مسعود نے 16 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی، جن میں قومی ٹیم کو 12 مقابلوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ابتدا میں ٹیسٹ کپتانی کی پیشکش سلمان آغا کو کی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق سلمان آغا ایسی ٹیم کی قیادت نہیں کرنا چاہتے تھے جو کارکردگی اور اندرونی ہم آہنگی کے مسائل سے دوچار ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سلمان آغا کو بھی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کے دوران شدید دباؤ کا سامنا رہا، جبکہ رواں برس ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ان کی دفاعی حکمت عملی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پاکستان ٹیم بھارت کے خلاف اہم میچ میں شکست کے بعد سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکی، جبکہ اگلے مرحلے میں انگلینڈ سے ناکامی نے قومی ٹیم کی مہم کا خاتمہ کر دیا۔

بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بابر اعظم نے نومبر 2023 میں تینوں فارمیٹس کی کپتانی اس لیے چھوڑی تھی کیونکہ وہ صرف ایک فارمیٹ کی قیادت قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے، حالانکہ انہیں ایک فارمیٹ کی کپتانی کی پیشکش کی گئی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم نے ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے 20 میچوں میں پاکستان کی قیادت کی، جن میں قومی ٹیم نے 10 میچ جیتے، 6 میں شکست کھائی، جبکہ 4 مقابلے بغیر نتیجہ ختم ہوئے۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ مذکورہ اطلاعات کا انحصار بھارتی میڈیا رپورٹ میں شائع ہونے والے ذرائع پر ہے۔