پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے کینسر کے افغان مریض اور اس کے اہلخانہ کو ملک بدر کرنے سے روک دیا، قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باوجود انسانی بنیادوں پر بڑا فیصلہ
پشاور (حسبان میڈیا) – پشاور ہائیکورٹ نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کینسر کے موذی مرض میں مبتلا افغان باشندے اور ان کے 12 اہلخانہ کو 30 روز کی مدت کے لیے گرفتار یا ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دائر ایک رٹ پٹیشن پر سماعت کے بعد جاری کیا۔
تفصیلات کے مطابق، جسٹس صلاح الدین اور جسٹس جواد احسان اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے افغان مریض انار گل، ان کی اہلیہ اور بیٹے کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ میڈیکل ویزا کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کریں یا پاکستان میں قیام کی اجازت کے لیے وزارتِ داخلہ میں مناسب درخواست جمع کروائیں۔ بنچ نے وزارتِ داخلہ کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ درخواست موصول ہونے پر مریض کی طبی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری فیصلہ کریں۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ درخواست گزاروں کے پاس اس وقت قانونی امیگریشن اسٹیٹس موجود نہیں ہے، تاہم مریض اس وقت شدید علیل اور زیرِ علاج ہے۔ درخواست گزار کے وکیل عمران خان نے دلائل دیے کہ ان کے مؤکل سوات میں پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ کی بنیاد پر مقیم تھے جو اب منسوخ ہو چکا ہے۔ انار گل کینسر کے مریض ہیں جن کی تشخیص آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں ہوئی تھی اور وہ اس وقت اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کیموتھراپی کروا رہے ہیں، جس میں کوئی بھی تاخیر ان کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ دوسری جانب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سید جمیل شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث ان کا قیام غیر قانونی ہے، تاہم انہوں نے بھی تصدیق کی کہ درخواست گزار میڈیکل ویزا یا وزارتِ داخلہ سے رجوع کر سکتے ہیں۔