ویب ڈیسک: ملک بھر کے کاروباری، سرمایہ کار اور مالیاتی حلقے آج اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جہاں آئندہ تقریباً ڈیڑھ ماہ کے لیے بنیادی شرح سود سے متعلق اہم فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی تازہ صورتحال، معاشی اشاریوں، زرمبادلہ کے ذخائر، مالیاتی استحکام اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد پالیسی ریٹ کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔
اجلاس مکمل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کے گورنر پریس کانفرنس کے ذریعے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کریں گے اور شرح سود سے متعلق فیصلے کے پس منظر اور اہم نکات سے آگاہ کریں گے۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ مالیاتی جائزے کے دوران 27 اپریل سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے بعد آج ہونے والے فیصلے کو کاروباری برادری اور سرمایہ کار غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مہنگائی کی رفتار، روپے کی صورتحال، زرمبادلہ کے ذخائر اور عالمی معاشی حالات مانیٹری پالیسی کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مارکیٹ کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مرکزی بینک شرح سود میں تبدیلی کرتا ہے یا اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو آئندہ مہینوں میں قرضوں کی لاگت، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور مجموعی معاشی سمت کے تعین میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔