حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے رکوا دیے؟ نئی رپورٹ نے واشنگٹن کی حکمتِ عملی پر بڑے سوال اٹھا دیے Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے رکوا دیے؟ نئی رپورٹ نے واشنگٹن کی حکمتِ عملی پر بڑے سوال اٹھا دیے

ایڈیٹر - 26/07/2026
ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملے رکوا دیے؟ نئی رپورٹ نے واشنگٹن کی حکمتِ عملی پر بڑے سوال اٹھا دیے

ویب ڈیسک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر امریکی فوج کو ایران کے خلاف مزید فضائی حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد واشنگٹن کی آئندہ حکمتِ عملی اور سفارتی سمت پر نئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔

ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے باخبر دو ذرائع نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز فوج کو واضح ہدایت دی کہ ایران کے خلاف کسی نئے حملے کی منظوری نہ دی جائے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے ایران پر روزانہ کی بنیاد پر فوجی کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ کا یہ حکم عارضی نوعیت کا ہے یا آئندہ بھی برقرار رہے گا، تاہم اس پیش رفت کو سفارتی کوششوں کے لیے ممکنہ موقع فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی قیادت اس نتیجے پر بھی پہنچی ہے کہ اب تک کیے گئے فضائی حملوں سے اپنے اہم فوجی اہداف بڑی حد تک حاصل کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید وسیع پیمانے کی کارروائی سے قبل سیاسی اور سفارتی امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج ممکنہ بڑے زمینی آپریشن کی صورت میں واپسی اور دیگر عسکری منصوبوں پر کام کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی حتمی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز بھی ایران کے خلاف ایک نیا فوجی منصوبہ صدر ٹرمپ کو پیش کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس کی منظوری دینے کے بجائے حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ فوجی احکامات جاری کرنے کے کچھ ہی دیر بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس ایران کے خلاف کارروائی جاری رکھنے، اسے مزید وسعت دینے اور ضرورت پڑنے پر مکمل تباہ کن آپریشن کا اختیار موجود ہے، تاہم ان کے نزدیک موجودہ حالات میں سفارتی حل زیادہ مناسب راستہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور ان کے خیال میں تہران پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ہر ممکن آپشن کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے باوجود مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔

بعد ازاں ایک اور گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ایران اس وقت کسی معاہدے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم وہ ایرانی مؤقف سننے اور سفارتی بات چیت جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔