پشاور : صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہونے والی حالیہ شدید اور طوفانی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں پشاور کے تاجروں کو محض ایک ہی دن میں 1 ارب روپے سے زائد کا ہولناک مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ طوفانی لدھیانوی بارش کے بعد شہر کے درجنوں بڑے تجارتی مراکز اور بازار مکمل طور پر بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ سیلابی ریلوں اور نکاسیِ آب کے ناقص انتظام کے باعث بلور پلازہ، شفیع مارکیٹ، یونیورسٹی روڈ، خیبر بازار، قصہ خوانی اور پیپل منڈی سمیت دیگر اہم تجارتی علاقے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بارش کا پانی مختلف بازاروں کے نشیبی علاقوں اور خصوصاً زیرِ زمین (بیسمنٹ) میں قائم کاروباری مراکز میں داخل ہو گیا ہے۔ پانی بھر جانے سے کپڑوں کے مختلف مراکز، الیکٹرانکس اور دیگر قیمتی سامان کے گوداموں میں پڑا کروڑوں روپے کا اسٹاک مکمل طور پر ابل کر پامال ہو چکا ہے۔ متاثرہ تاجروں اور کاروباری حلقوں کے مطابق گذشتہ شب سے آنے والے سیلابی پانی اور ریلے کے باعث دکانوں میں پانی داخل ہوا، جس کے بعد ہنگامی طور پر سامان اور کپڑوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا سلسلہ شروع کیا گیا، تاہم بڑے پیمانے پر نقصان کو نہ روکا جا سکا۔
اس شدید بحران میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور انٹرنیٹ کی معطلی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں اور کاروباری مواصلات بری طرح متاثر ہوئیں۔ جی ٹی روڈ، اشرف روڈ اور اندرونِ شہر کے مختلف درجنوں بازاروں میں بجلی کا نظام نہ ہونے سے بحالی کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور تاجر برادری اس وقت شدید ترین مالی اور ذہنی پریشانی کا سامنا کر رہی ہے۔ تاجر تنظیموں نے حکومت سے فوری طور پر نقصانات کے ازالے اور پشاور کے نکاسیِ آب کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔