حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، مارکو روبیو کا سخت بیان، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، مارکو روبیو کا سخت بیان، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ

ایڈیٹر - 20/07/2026
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، مارکو روبیو کا سخت بیان، خطے میں نئی کشیدگی کا خدشہ

ویب ڈیسک: امریکا نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو سیاسی اور معاشی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران نے اپنے اقدامات کو قومی سلامتی کے تقاضوں سے جوڑتے ہوئے کسی بھی ممکنہ کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سرگرمیاں عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے بقول تہران بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی نظام کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی قیادت نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ ملک کی سلامتی اور دفاع کو یقینی بنانا ایران کا بنیادی حق ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی یا دیگر کارروائی کی گئی تو اس کا مؤثر اور سخت جواب دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی ترسیل اسی اہم بحری راستے سے ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جسے عالمی توانائی کی تجارت کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس سے متعلق کسی بھی ملک کا سخت مؤقف یا فوجی سرگرمی بین الاقوامی سطح پر فوری توجہ حاصل کرتی ہے اور خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کو جنم دیتی ہے۔