ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں مسلسل نویں روز بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہازوں میں ہونے والے دھماکوں نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائیوں کا مقصد ایران کی جانب سے اہم بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ پیر کی صبح ایران کے متعدد شہروں، جن میں تبریز، چاہ بہار، کنارک، بندر ماہ شہر اور بندر امام خمینی شامل ہیں، دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے گئے، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ جب تک ایران بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بنا رہے گا، امریکا اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پوری دنیا کے لیے اہم تجارتی راستہ ہے، تاہم واشنگٹن سفارتی حل کے دروازے بھی کھلے رکھنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے علاقے التنف میں امریکی فوج کے خصوصی آپریشنز مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی فورسز نے یہ بھی کہا کہ اردن کے عقبہ ہوائی اڈے پر موجود امریکی طیاروں پر بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اس سے قبل کویت میں امریکی فوجی تنصیبات، جن میں العذیری کیمپ اور علی السالم فضائی اڈہ شامل ہیں، پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔ کویتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک واٹر پلانٹ مسلسل دوسرے روز حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے گزرنے والے دو تیل بردار جہاز دھماکوں کے باعث ناکارہ ہو گئے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ امریکی فوج نے ان جہازوں کو غیر محفوظ راستے سے گزرنے پر آمادہ کیا تھا۔
ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز کو محفوظ تجارتی راستہ تصور نہیں کیا جا سکتا اور اس دوران تیل، گیس یا پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ترسیل متاثر رہ سکتی ہے۔
عالمی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ خام تیل کی عالمی قیمت دو فیصد اضافے کے بعد نوے ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
دریں اثنا امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ شمالی عراق میں ایک ایرانی ڈرون کے دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے ایک امریکی اہلکار ہلاک ہو گیا، جبکہ اردن میں ایک حملے کے بعد لاپتا فوجی کی تلاش اور جائے وقوعہ سے ملنے والی باقیات کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔
تازہ ہلاکت کے بعد جاری تنازع میں جان گنوانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سترہ ہو گئی ہے، جبکہ چار سو بیس سے زائد اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ موجودہ جنگی کشیدگی کا آغاز اٹھائیس فروری کو ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد ہوا تھا، جس کے نتیجے میں خطے میں انسانی اور معاشی نقصان مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔