ویب ڈیسک: ملک کے اعلیٰ ترین سرکاری مقابلے کے امتحان سی ایس ایس میں دلچسپی تیزی سے کم ہونے لگی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران امتحان کے لیے رجسٹریشن کرانے والے امیدواروں کی تعداد میں تقریباً اڑتالیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ وفاقی سرکاری ملازمتوں کے لیے عمومی بھرتیوں میں بھی درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
وفاقی پبلک سروس کمیشن کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار بائیس میں سی ایس ایس امتحان کے لیے پینتیس ہزار انسٹھ امیدواروں نے رجسٹریشن کرائی تھی، تاہم دو ہزار پچیس میں یہ تعداد کم ہو کر اٹھارہ ہزار ایک سو انتالیس رہ گئی۔
اسی عرصے کے دوران امتحان میں عملی طور پر شریک ہونے والے امیدواروں کی تعداد بھی بیس ہزار دو سو باسٹھ سے کم ہو کر بارہ ہزار سات سو بانوے تک پہنچ گئی، جس سے امتحان میں مجموعی دلچسپی میں واضح کمی ظاہر ہوتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق منتخب ہونے والے امیدواروں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔ دو ہزار بائیس میں دو سو انتالیس امیدوار کامیاب قرار پائے، جبکہ دو ہزار پچیس میں یہ تعداد گھٹ کر صرف ایک سو ستر رہ گئی۔
وفاقی سرکاری اداروں میں عمومی بھرتیوں کے رجحان میں بھی نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ دو ہزار تئیس میں عمومی آسامیوں کے لیے چار لاکھ چھتیس ہزار سات سو ستاون امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں، لیکن دو ہزار پچیس میں یہ تعداد کم ہو کر ایک لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو ترانوے رہ گئی، جو صرف دو برس میں پچپن فیصد سے زیادہ کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح بھرتی کے امتحانات میں شرکت کرنے والے امیدواروں کی تعداد بھی دو ہزار تئیس کے ایک لاکھ ننانوے ہزار دو سو چونتیس سے کم ہو کر دو ہزار پچیس میں اسی ہزار چھ سو تینتیس رہ گئی۔
رپورٹ کے مطابق امیدواروں کی تعداد میں کمی کے باوجود کامیابی حاصل کرنا بدستور انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ دو ہزار پچیس میں سی ایس ایس کے لیے رجسٹرڈ اٹھارہ ہزار سے زائد امیدواروں میں سے صرف ایک سو ستر افراد کو سفارشات کے لیے منتخب کیا گیا، جبکہ عمومی بھرتیوں میں تقریباً دو لاکھ درخواست گزاروں میں سے صرف تین ہزار پانچ امیدوار کامیاب قرار پائے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ رجسٹریشن اور امتحان میں شرکت کے درمیان فرق میں کچھ بہتری آئی ہے۔ دو ہزار تئیس میں سی ایس ایس کے رجسٹرڈ امیدواروں میں سے تقریباً پینتالیس فیصد امتحان میں شریک ہوئے تھے، جبکہ دو ہزار پچیس میں یہ شرح بڑھ کر تقریباً اکہتر فیصد ہو گئی۔
اسی طرح عمومی بھرتیوں کے امتحانات میں شرکت کی شرح بھی دو ہزار بائیس کے تقریباً بتیس فیصد سے بڑھ کر دو ہزار پچیس میں اکتالیس فیصد تک پہنچ گئی، تاہم اس کے باوجود رجسٹرڈ امیدواروں کی بڑی تعداد امتحانات میں شریک نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواستوں میں کمی کے باوجود مقابلے کی شدت برقرار ہے، کیونکہ دستیاب آسامیوں کے مقابلے میں امیدواروں کی تعداد اب بھی کئی گنا زیادہ ہے، جس کے باعث کامیابی حاصل کرنا آج بھی ایک بڑا چیلنج تصور کیا جاتا ہے۔