حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ترکیہ میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں اب تک 19,574 افغان باشندے گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ Home / بین الاقوامی /

ترکیہ میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں اب تک 19,574 افغان باشندے گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

ایڈیٹر - 18/07/2026
ترکیہ میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں اب تک 19,574 افغان باشندے گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

اسلام آباد: غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف عالمی کریک ڈاؤن میں تیزی، پاکستان سمیت متعدد ممالک میں قوانین سخت

دنیا کے مختلف ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف انتظامی اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے۔ حالیہ عالمی رپورٹس اور بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں سے واضح اشارے ملتے ہیں کہ میزبان ممالک اب اپنے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی موجودگی کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ غیر قانونی تارکین وطن پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک کے لیے سیکیورٹی، معیشت اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے سنگین چیلنجز کا باعث بن رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سرحدوں پر کڑی نگرانی اور ملک بدری کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولینڈ کے سرحدی حکام نے لتھوانیا اور بیلاروس سے ملحقہ علاقوں میں ایک بڑا آپریشن کرتے ہوئے 71 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ پولش بارڈر گارڈز کا کہنا ہے کہ ابتدائی قانونی کارروائی اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ان تمام گرفتار افراد کو ضابطے کے تحت لتھوانیا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ترکیہ میں بھی افغان شہریوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ ترک شہر بولو (Bolu) میں پولیس نے چھاپہ مار کر مزید 20 افغان شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ترک امیگریشن حکام کے مطابق، رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران اب تک مجموعی طور پر 19 ہزار 574 افغان باشندوں کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے یا قیام کرنے پر حراست میں لیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (UNHCR) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کے اندرونی حالات، شدید غربت اور انسانی حقوق کے مسائل وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں افراد قانونی راستوں کے بجائے غیر قانونی طور پر بیرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ حالیہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب عالمی سطح پر بارڈر کنٹرول پالیسیوں کو غیر معمولی طور پر سخت کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ اس انسانی اور انتظامی بحران کے مستقل حل کے لیے دنیا بھر کی حکومتوں کو قانونی راستوں کی فراہمی اور افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک مشترکہ، مؤثر اور مربوط حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔