حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران کی امریکا کو کھلی وارننگ، مزید حملے ہوئے تو جنگ کا نقشہ بدل دیں گے، مشیرِ سپریم لیڈر کا سخت بیان Home / بین الاقوامی /

ایران کی امریکا کو کھلی وارننگ، مزید حملے ہوئے تو جنگ کا نقشہ بدل دیں گے، مشیرِ سپریم لیڈر کا سخت بیان

ایڈیٹر - 18/07/2026
ایران کی امریکا کو کھلی وارننگ، مزید حملے ہوئے تو جنگ کا نقشہ بدل دیں گے، مشیرِ سپریم لیڈر کا سخت بیان

تہران: ایران کی اعلیٰ قیادت کے مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین روز کے دوران ایرانی سرزمین پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو تہران دفاعی حکمت عملی سے آگے بڑھتے ہوئے مکمل جارحانہ فوجی کارروائی کا آغاز کر دے گا۔

سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مزید عسکری کارروائیاں پورے تنازع کی نوعیت تبدیل کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایران ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور اگر حملے نہ رکے تو بھرپور فوجی ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد یہ سمجھوتہ عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔

محسن رضائی کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا نہ ہونا، آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی اقدامات، ایرانی سرزمین پر حملے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی نہ ہونا ایسے اقدامات ہیں جنہیں تہران معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے معاہدے کو ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا، جبکہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ عسکری دباؤ کی پالیسی بھی اپنائی گئی۔ ان کے بقول حالیہ پیش رفت کے بعد یہ حکمت عملی اب اپنی حیثیت کھو چکی ہے۔

ایرانی مشیر نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے دوران امریکی افواج نے اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کیا، تاہم ایرانی مسلح افواج بھی ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

دریں اثنا ایرانی مسلح افواج نے بھی سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نشانہ بنایا تو ان ممالک میں قائم امریکی کمپنیوں کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے، جو اپنی سرزمین امریکی فوجی سرگرمیوں کے لیے فراہم کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی کے آثار تاحال دکھائی نہیں دے رہے۔