ویب ڈیسک: ایران نے ہرمزگان صوبے میں امریکی حملوں کے نتیجے میں جان گنوانے والے آٹھ شہریوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حملوں میں خواتین اور معذور افراد بھی نشانہ بنے۔ ایرانی قیادت نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین، دو معذور بھائیوں سمیت چار مرد شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ شہری مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کے دوران جان سے گئے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بندر خمیر میں ہلاک ہونے والے تین شہریوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ ان کے مطابق یہ افراد ایک پل سے گزر رہے تھے کہ اسی دوران حملہ ہوا، جس میں وہ جان کی بازی ہار گئے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ متاثرہ شہریوں کی قربانی کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور ایران اپنی خودمختاری اور سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ہرمزگان کے متاثرین کی تصاویر سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد ایرانی عوام پہلے سے زیادہ متحد اور پُرعزم ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے اور دشمنوں کو اپنے اقدامات پر پچھتانا پڑے گا۔
ایران کی جانب سے یہ بیانات اور تصاویر ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جبکہ اس واقعے پر امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔