حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ، ایران جنگ ختم کرانے کی کوششوں کے خلاف اسرائیل پر خفیہ مہم چلانے کا الزام Home / بین الاقوامی /

جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ، ایران جنگ ختم کرانے کی کوششوں کے خلاف اسرائیل پر خفیہ مہم چلانے کا الزام

ایڈیٹر - 17/07/2026
جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ، ایران جنگ ختم کرانے کی کوششوں کے خلاف  اسرائیل پر خفیہ مہم چلانے کا الزام

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض اسرائیلی حلقے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ہونے والی کوششوں کے مخالف تھے اور جنگ بندی یا امن معاہدے کے عمل کو ناکام بنانے کے لیے مبینہ طور پر ایک منظم مہم چلائی گئی۔

جے ڈی وینس نے معروف پوڈکاسٹر جوئے روگن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے کچھ اسرائیلی عناصر شدید تحفظات رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف بھی ایک منظم اور مالی وسائل سے بھرپور مہم چلائی گئی، جس کا مقصد ان کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرنا تھا۔

امریکی نائب صدر نے گفتگو کے دوران ٹائم میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت میں رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے مالی وسائل کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت سے منسلک ایک عالمی تشہیری ادارے نے امریکا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے خلاف مہم کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی۔ اس مہم میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق انتخابی ٹیم سے وابستہ ڈیجیٹل حکمت عملی کے ماہر بریڈ پارسکیل اور ان کی کمپنی کلاک ٹاور ایکس کی خدمات حاصل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ ایک خفیہ، منظم اور بڑی مالی معاونت سے چلنے والی کوشش تھی، جس کا مقصد مذاکراتی عمل اور ممکنہ معاہدے کو متاثر کرنا تھا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس مہم کے دوران انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، صحافیوں کو ان کے خلاف معلومات فراہم کی گئیں اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ امریکا کو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے گریز کرنا چاہیے۔

وینس کے مطابق ان پر قطر اور دیگر غیر ملکی حکومتوں کے اثر و رسوخ سے متعلق الزامات بھی لگائے گئے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد صرف صدر ٹرمپ کے مقرر کردہ اہداف پر عمل درآمد کرنا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مختلف ممالک کا امریکی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنا عالمی سیاست کا حصہ ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی بیرونی اثر و رسوخ امریکی قومی مفادات کے خلاف فیصلوں کو متاثر کرنے لگے۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل اتحادی ہیں، تاہم اتحادی ممالک کے درمیان بھی بعض معاملات پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف اسرائیل مخالف یا یہود دشمنی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایران سے متعلق فیصلے صدر ٹرمپ کے اپنے تھے، جبکہ نائب صدر کی حیثیت سے ان کا کردار حکومتی فیصلوں کی حمایت کرنا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں، اور وہ خود بھی اسی مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

انہوں نے ان رپورٹس کو بھی مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا ایران کو تین سو ارب ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا براہ راست ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا، تاہم پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی صورت میں خلیجی ممالک ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران جوئے روگن نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق سرکاری دستاویزات کے اجرا میں تاخیر اور اس معاملے پر اٹھنے والے سوالات بھی سامنے رکھے۔

جے ڈی وینس نے تسلیم کیا کہ ایپسٹین فائلز کے معاملے میں حکومتی حکمت عملی درست نہیں تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد کسی حقیقت کو چھپانا نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیفری ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس حلقوں سے روابط کے دعوے موجود رہے ہیں، لیکن حکومت کے پاس ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جو ان تعلقات کی باضابطہ تصدیق کرتی ہو۔ ان کے مطابق اگر ماضی میں کوئی اہم شواہد موجود بھی تھے تو ممکن ہے کہ وہ دو ہزار آٹھ میں ایپسٹین کے خلاف کارروائی کے دوران ہی ختم ہو گئے ہوں۔