حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
مصنوعی ذہانت کے عالمی اتحاد میں پاکستان کی بڑی انٹری، چین میں اہم معاہدے پر دستخط، بانی رکن کا اعزاز حاصل Home / پاکستان /

مصنوعی ذہانت کے عالمی اتحاد میں پاکستان کی بڑی انٹری، چین میں اہم معاہدے پر دستخط، بانی رکن کا اعزاز حاصل

ایڈیٹر - 17/07/2026
مصنوعی ذہانت کے عالمی اتحاد میں پاکستان کی بڑی انٹری، چین میں اہم معاہدے پر دستخط، بانی رکن کا اعزاز حاصل

ویب ڈیسک: پاکستان نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر تعاون بڑھانے کے لیے قائم ہونے والی نئی بین الحکومتی تنظیم ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا بانی رکن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ اس نئی تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کی محفوظ، ذمہ دارانہ اور منصفانہ ترقی کے لیے رکن ممالک کے درمیان اشتراک کو فروغ دینا ہے۔

چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے دوران پاکستان سمیت انتیس ممالک نے تنظیم کے قیام سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور مختلف ممالک و بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ نمائندے بھی شریک ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد پاکستان باضابطہ طور پر اس نئی عالمی تنظیم کے بانی اراکین میں شامل ہو گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی تعاون کو فروغ دینے، جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی یقینی بنانے اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان موجود ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے کے لیے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس پلیٹ فارم کے ذریعے ایسے اقدامات کی حمایت کرے گا جن سے مصنوعی ذہانت کے فوائد زیادہ سے زیادہ ممالک تک پہنچ سکیں، خصوصاً ان ریاستوں تک جو ترقی کے سفر میں جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی رکھتی ہیں۔

چین کی سرپرستی میں قائم ہونے والی اس تنظیم میں زیادہ تر ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکی ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ بانی اراکین میں پاکستان، چین، روس، برازیل، انڈونیشیا، قازقستان، بیلاروس، سربیا، کیوبا، وینزویلا، لاؤس اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

تنظیم کے قیام کے معاہدے کے مطابق اس کا مستقل صدر دفتر شنگھائی میں قائم ہوگا، جبکہ ادارہ ایک آزاد بین الحکومتی عالمی تنظیم کے طور پر کام کرے گا۔ معاہدے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تنظیم اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں رکن ممالک کے درمیان مشاورت، باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کو فروغ دے گی، جبکہ انسانی فلاح کو اپنی پالیسیوں کا بنیادی محور بنائے گی۔

اسی سلسلے میں شنگھائی میں سترہ سے بیس جولائی تک چار روزہ عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس بھی منعقد ہو رہی ہے، جس میں مختلف ممالک کے حکومتی نمائندے، ٹیکنالوجی ماہرین، تحقیقی ادارے اور بڑی کمپنیاں شریک ہوں گی۔

چینی سرکاری ذرائع کے مطابق صدر شی جن پنگ کانفرنس کے دوران مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق چین کا مستقبل کا لائحہ عمل پیش کریں گے۔ اس موقع پر چین کم لاگت اور اوپن سورس مصنوعی ذہانت ماڈلز کو ترقی پذیر ممالک کے لیے مؤثر متبادل کے طور پر متعارف کرانے اور جدید ٹیکنالوجی تک مساوی عالمی رسائی کے مؤقف کو بھی اجاگر کرے گا۔