ویب ڈیسک: پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد نواز کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق کرکٹر کے نمونے میں ممنوعہ مادے کی موجودگی ثابت ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بتیس سالہ محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ سات فروری دو ہزار چھبیس کو کولمبو میں پاکستان اور نیدرلینڈز کے درمیان کھیلے گئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کے بعد لیا گیا تھا۔ ٹیسٹ رپورٹ میں ممنوعہ مادہ کاربوکسی ٹی ایچ سی پائے جانے کے بعد معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی گئیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر محمد نواز کی طبی تفصیلات بھی آئی سی سی کو فراہم کی تھیں، جب ان کے ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
آئی سی سی کے مطابق محمد نواز نے اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کو تسلیم کر لیا ہے، تاہم انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ممنوعہ مادہ مقابلے سے باہر استعمال ہوا اور اس کا ان کی کھیل میں کارکردگی بہتر بنانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
کرکٹ کی عالمی تنظیم کے مطابق محمد نواز کے لیے ابتدائی طور پر تین ماہ کی پابندی مقرر کی گئی تھی، جس کا اطلاق یکم مئی سے کیا گیا، کیونکہ کرکٹر نے اسی تاریخ سے رضاکارانہ طور پر عارضی معطلی قبول کر لی تھی۔
آئی سی سی نے بتایا کہ محمد نواز نے بحالی پروگرام میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے باعث ان کی سزا کی مدت تین ماہ سے کم کرکے ایک ماہ کر دی گئی۔ چونکہ وہ پہلے ہی ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ عارضی معطلی میں گزار چکے تھے، اس لیے ان کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق اگر محمد نواز مقررہ بحالی پروگرام کامیابی سے مکمل کر لیتے ہیں اور عالمی کرکٹ ادارہ اس سے مطمئن ہوتا ہے تو انہیں مزید کسی اضافی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تاہم اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گئے میچ میں محمد نواز کی کارکردگی سمیت یکم مئی تک کھیلے گئے تمام مقابلوں کے نتائج سے متعلق ریکارڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ میں اس نوعیت کا معاملہ پہلی بار پیش نہیں آیا۔ اس سے قبل بھی کئی کھلاڑی ڈوپنگ قوانین کی زد میں آ چکے ہیں۔ دو ہزار چھ میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے قبل فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف ڈوپ ٹیسٹ میں ناکامی کے باعث پابندی کا سامنا کر چکے ہیں، جبکہ سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ پر بھی دو ہزار پندرہ میں ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر تین ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔