حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
نیب میں کروڑوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ نے کئی سنگین سوالات اٹھا دیے Home / پاکستان /

نیب میں کروڑوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ نے کئی سنگین سوالات اٹھا دیے

ایڈیٹر - 17/07/2026
نیب میں کروڑوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف، آڈٹ رپورٹ نے کئی سنگین سوالات اٹھا دیے

ویب ڈیسک: قومی احتساب بیورو سے متعلق مالی سال دو ہزار پچیس تا چھبیس کی آڈٹ رپورٹ میں مالی امور سے جڑی متعدد مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں قواعد کے برخلاف ادائیگیاں اور سرکاری رقم کے استعمال پر اہم اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق نیب ہیڈکوارٹر میں تقریباً ستائیس کروڑ اناسی لاکھ روپے کی ادائیگیاں مقررہ مالی قواعد کے مطابق نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقوم ریکوری اینڈ ریوارڈ فنڈ سے ادا کی جانی چاہیے تھیں، تاہم انہیں معمول کے بجٹ سے جاری کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق قانونی افسران، مشیروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو بھی کروڑوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، جن پر آڈٹ حکام نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔

آڈیٹرز نے نیب انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی وضاحت کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوری اینڈ ریوارڈ فنڈ موجود ہونے کے باوجود عام بجٹ سے اخراجات کرنا متعلقہ قواعد اور فنڈ کے بنیادی مقصد کے منافی ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ادارہ فوری طور پر ریکوری اینڈ ریوارڈ قواعد پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔

دوسری جانب آڈٹ رپورٹ میں نیب پشاور سے متعلق بھی ایک اہم انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چار کروڑ انہتر لاکھ روپے کی وصول شدہ رقم سرکاری خزانے میں منتقل نہیں کی گئی۔

آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے وصول کی جانے والی یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے چیئرمین نیب کے ذاتی اکاؤنٹ میں رکھی گئی، جسے مالیاتی ضوابط کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس طرزِ عمل کے باعث سرکاری خزانہ اپنی واجب الادا آمدن سے محروم رہا۔ آڈٹ حکام نے نیب پشاور کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ رقم فوری طور پر قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔