حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکہ کا بڑا اعلان، غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی Home / بین الاقوامی /

امریکہ کا بڑا اعلان، غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی

ایڈیٹر - 17/07/2026
امریکہ کا بڑا اعلان، غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا پالیسی  میں بڑی تبدیلی

ویب ڈیسک: امریکی حکومت نے غیرملکی طلبہ، ثقافتی تبادلہ پروگراموں میں شریک افراد اور بیرونِ ملک سے آنے والے صحافیوں کے لیے ویزا قواعد مزید سخت بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد ان کے قیام، تعلیم اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق متعدد نئی پابندیاں نافذ ہونے جا رہی ہیں۔

امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ضوابط کے مطابق طلبہ کے ویزا، ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے ویزا اور غیرملکی صحافیوں کے ویزا کی مدت اب پہلے کی نسبت محدود ہوگی۔ یہ قواعد وفاقی رجسٹر میں اشاعت کے ساٹھ روز بعد نافذ العمل ہوں گے، تاہم اس سے قبل ان کا کانگریس کی سطح پر جائزہ بھی لیا جائے گا۔

نئے نظام کے تحت غیرملکی طلبہ اور ثقافتی تبادلہ پروگراموں میں شامل افراد کو زیادہ سے زیادہ چار برس تک قیام کی اجازت ہوگی، جبکہ غیرملکی صحافیوں کے لیے ویزا کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سو چالیس دن مقرر کی گئی ہے۔ چینی شہریوں کے لیے یہ مدت مزید کم کرتے ہوئے صرف نوے دن رکھی گئی ہے۔

اس سے پہلے ان زمروں کے ویزا عام طور پر تعلیمی پروگرام، تربیتی کورس یا ملازمت کے مکمل دورانیے تک مؤثر رہتے تھے، تاہم اب مقررہ مدت ختم ہونے پر متعلقہ افراد کو توسیع کے لیے باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔

نئے ضوابط کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اگر دورانِ تعلیم اپنا تعلیمی شعبہ یا پروگرام تبدیل کرنا چاہیں تو انہیں پہلے سے زیادہ سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اسی طرح تعلیم یا تربیت مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی مہلت بھی ساٹھ دن سے کم کرکے صرف تیس دن کر دی گئی ہے۔

امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی کے سابق عہدیدار ڈوگ رینڈ نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بین الاقوامی طلبہ کو خوش آمدید کہنے اور غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں میں کمی کے حامی ہیں، لیکن نئے ضوابط اس سوچ کے برعکس نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال دو ہزار چوبیس کے دوران امریکہ نے ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے تحت پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کو ویزے جاری کیے، جبکہ سینتیس ہزار تین سو غیرملکی صحافیوں کو بھی ویزا فراہم کیا گیا۔

محکمہ برائے داخلی سلامتی کا مؤقف ہے کہ غیرملکی افراد کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ان کی نگرانی، ویزا شرائط پر عمل درآمد اور امیگریشن قوانین کی مؤثر نگرانی حکومت کے لیے ایک بڑا انتظامی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق ایسے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں طلبہ اور ثقافتی تبادلہ پروگرام کے ویزا پر آنے والے افراد کئی کئی دہائیوں تک امریکہ میں مقیم رہے۔