حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی جزائر پر زمینی کارروائی کا امکان زیرِ غور ہونے کا دعویٰ Home / بین الاقوامی /

امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی جزائر پر زمینی کارروائی کا امکان زیرِ غور ہونے کا دعویٰ

ایڈیٹر - 16/07/2026
امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ، ٹرمپ کا ایرانی جزائر پر زمینی کارروائی کا امکان زیرِ غور ہونے کا دعویٰ

ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جہاں ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔

امریکی اخبار نے چند امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ زمینی افواج تعینات کر کے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزائر پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔

تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے اور معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکا دیکھے گا کہ آیا کوئی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں گرفتار کی گئی ایک امریکی خاتون کو رہا کیا ہے، جسے انہوں نے خیرسگالی کا قدم قرار دیا۔

ایرانی پلوں کو نشانہ بنانے کی ممکنہ ڈیڈ لائن سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ ڈیڈ لائن دینے کو پسند نہیں کرتے، تاہم ایران کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا چاہیے کیونکہ وہ موجودہ صورتحال سے آگاہ ہے۔

ادھر امریکی فوج نے ایران کے خلاف ایک اور کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تازہ حملوں کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جنہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں کے دوران سیریک، اہواز، چاہ بہار اور بندر عباس سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ایرانی حکام کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں سات ایرانی فوجی اہلکار اور 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ کشیدگی اب خطے کی سلامتی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کر رہی ہے۔